جون 2025 میں ایران کی پارلیمنٹ نے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی قرارداد منظور کی، جو امریکہ کے ایران کے جوہری تنصیبات پر حملوں کے ردعمل میں پیش کی گئی۔ اگرچہ یہ فیصلہ حتمی نہیں اور ایران کی اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کی منظوری کا منتظر ہے، لیکن اس اقدام نے عالمی منڈیوں میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔
آبنائے ہرمز ایک تنگ آبی راستہ ہے جو خلیج فارس کو بحیرہ عرب سے جوڑتا ہے، اور دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی ہے۔ اگر یہ راستہ بند ہوتا ہے تو عالمی تیل کی قیمتوں میں شدید اضافہ متوقع ہے، جو مہنگائی اور اقتصادی بحران کا سبب بن سکتا ہے۔
تیل کی قیمتوں میں ممکنہ اضافہ
حالیہ کشیدگی کے باعث برینٹ کروڈ آئل کی قیمت 77 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے، جو جون کے وسط سے 10 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز کی بندش جاری رہتی ہے تو تیل کی قیمتیں 110 ڈالر فی بیرل تک جا سکتی ہیں، اور بدترین صورت میں یہ 130 ڈالر فی بیرل تک بھی پہنچ سکتی ہیں۔
بین الاقوامی ردعمل اور سفارتی کوششیں
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش “اقتصادی خودکشی” کے مترادف ہوگی، اور چین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایران کو اس اقدام سے باز رکھے، کیونکہ چین کی معیشت بھی اس راستے پر انحصار کرتی ہے۔
برطانیہ کے وزیر خارجہ ڈیوڈ لامی نے بھی ایران کو متنبہ کیا ہے کہ اس اقدام سے خطے میں کشیدگی بڑھے گی اور ایران کی اپنی معیشت کو بھی نقصان پہنچے گا۔
ایران کے لیے ممکنہ نقصانات
اگرچہ ایران اس بندش سے امریکہ اور اس کے اتحادیوں پر دباؤ ڈال سکتا ہے، لیکن یہ اقدام ایران کے لیے بھی نقصان دہ ہوگا۔ ایران کی اپنی تیل کی برآمدات کا بڑا حصہ اسی راستے سے ہوتا ہے، اور بندش کی صورت میں ایران کی معیشت کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔
۔


