سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ کشیدگی کے دوران جنگ بندی کی کوششوں میں قطر سے سفارتی مدد حاصل کی، جس کے نتیجے میں دونوں ممالک نے محدود جنگ بندی پر اتفاق کیا۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق، ٹرمپ نے قطری قیادت سے براہِ راست رابطہ کر کے ایران کو قائل کرنے میں معاونت کی درخواست کی۔ قطر کے وزیرِاعظم شیخ محمد بن عبدالرحمٰن الثانی نے ایرانی حکام سے بات چیت کی، جس کے بعد ایران نے امریکی تجویز پر رضامندی ظاہر کی۔
ٹرمپ نے بعد ازاں اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ٹروتھ سوشل” پر بیان جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ “ایران اور اسرائیل نے مکمل جنگ بندی پر اتفاق کر لیا ہے۔ اگلے 6 گھنٹوں میں دونوں فریقین اپنے موجودہ مشنز مکمل کریں گے اور 12 گھنٹے بعد جنگ کو ختم تصور کیا جائے گا۔”
امریکی ذرائع کے مطابق، ٹرمپ نے اسرائیلی وزیرِاعظم بن یامین نیتن یاہو سے بھی ٹیلیفون پر گفتگو کی، جبکہ وائٹ ہاؤس کے دیگر عہدیداروں نے ایرانی حکام سے بالواسطہ رابطہ قائم کیا۔
رپورٹس کے مطابق قطر نے ثالثی کا کردار ادا کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں اہم کردار نبھایا۔ ایران کے ساتھ قریبی تعلقات اور خطے میں سفارتی اثرورسوخ کے باعث قطر ماضی میں بھی متعدد مواقع پر مذاکراتی کردار ادا کرتا رہا ہے۔
یاد رہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری تناؤ اور ایران اسرائیل کشیدگی کے پیش نظر بین الاقوامی برادری نے فریقین پر تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا تھا۔ ٹرمپ کی جانب سے ثالثی کے لیے قطر سے رجوع کرنا اس سفارتی حکمت عملی کا حصہ تھا جس کا مقصد خطے میں استحکام کو یقینی بنانا ہے۔

