ایران نے اپنی جوہری تنصیبات پر امریکی حملوں کے جواب میں قطر اور عراق میں امریکی فوجی اڈوں پر بیلسٹک میزائل حملے کیے ہیں۔ ایرانی میڈیا کے مطابق، اس کارروائی کو ‘بشارتِ فتح’ کا نام دیا گیا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق، قطر کے دارالحکومت دوحہ میں واقع العدید ایئر بیس پر ایران کی جانب سے بیلسٹک میزائل فائر کیے گئے، جن میں سے چھ میزائلوں کا ہدف امریکی فوجی اڈے تھے۔ دوحہ میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، اور فضائی دفاعی نظام کی سرگرمی دیکھی گئی۔
ایرانی صدر مسعود پزیشکیان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ “ہم نے جنگ کا آغاز نہیں کیا، لیکن ایران پر حملے کا جواب ضرور دیں گے۔” ایرانی ریاستی میڈیا نے اس کارروائی کو “امریکہ کی جارحیت کے خلاف زبردست اور کامیاب ردعمل” قرار دیا ہے۔
ایران کی جانب سے عراق میں عین الاسد بیس پر بھی میزائل حملے کیے گئے ہیں، جہاں امریکی فوجی تعینات ہیں۔ عراقی سیکیورٹی حکام کے مطابق، یہ حملے ایران کی جانب سے امریکی جوہری تنصیبات پر حملوں کے ردعمل میں کیے گئے ہیں۔
اس صورتحال کے پیش نظر، قطر نے احتیاطی تدابیر کے طور پر اپنی فضائی حدود عارضی طور پر بند کر دی ہیں، اور امریکی سفارت خانے نے اپنے شہریوں کو محفوظ مقامات پر رہنے کی ہدایت جاری کی ہے۔
بین الاقوامی برادری نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کیا ہے، اور فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور سفارتی ذرائع سے مسائل کے حل پر زور دیا ہے۔


